روزے کی فضیلت


درج ذیل احادیث مبارکہ روزے کی فضیلت و اہمیت کو ثابت کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


"روزہ جہنم سے ڈھال ہے، جس طرح تمہارے ایک کی "لڑائی سے بچانے والی" ڈھال ہوتی ہے" (رواہ احمد و غیرہ)

جو شخص اللہ عزوجل کے راستہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے، اللہ اس کا چہرہ اس دن کے عوض جہنم سے سترسال دور کردے گا"(بخاری و مسلم)


" افطار کے وقت روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی"۔ (ابن ماجہ و حاکم)



"جنت میں ایک دروازہ ہے جسے "ریان" کہا جاتا ہے، قیامت کے دن اس سے روزے دار داخل ہوں گے۔ ان کے علاوہ اس میں سے کوئی اندر نہیں جاسکے گا۔ پکارا جائے گا روزے دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہوجائیں گے، ان کے سوا اور کوئی اس (دروازے) سے داخل نہیں ہوگا۔ جب یہ داخل ہوجائیں گے تو دروازہ بند کردیا جائے گا پھر بعد میں کوئی بھی اس میں داخل نہ ہوگا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”بنی آدم کا ہر عمل اس کیلئے ہے سوائے روزے کے، کہ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا"۔ اور روزہ (گناہوں سے) سپر (ڈھال) ہے۔ پھر جب کسی کا روزہ ہو تو اس دن گالیاں نہ بکے اور آواز بلند نہ کرے پھر اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑنے کو آئے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے کہ بیشک روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے اور روزہ دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔ ایک تو وہ اپنے افطار کے وقت خوش ہوتا ہے اور دوسرا وہ اس وقت خوش ہو گا جب وہ اپنے روزے کے سبب اپنے پروردگار سے ملے گا۔"(صحیح مسلم)

اسی مضمون کی ایک روایت صحیح بخاری میں ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:

" بنی آدم کے ہر نیک عمل پر اس کیلئے دس گنا سے لیکر سات سو گنا تک اجر ہے (اللہ تعالی فرماتے ہیں) سوائے روزہ کے، کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں اسے اس کا اجر دوں گا۔ بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوات میرے لئے چھوڑتا ہے، روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور (دوسری) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔ "


"پانچ نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک، اگر بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے تو (یہ تینوں) درمیانی عرصہ کے گناہوں کو ختم کردیتے ہیں"۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہوا اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ (صحیح بخاری)


ترجمہ: "رمضان کی پہلی رات شیاطین اور سرکش جنات باندھ دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا اور بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا اور اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے۔ "اے اچھائی کے متلاشی! آگے بڑھ اور اے شر کے متلاشی! رک جا اور (بہت سے لوگوں کو) اللہ جہنم سے آزاد کرتا ہے اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔" (سن الترمذی و قال غریب، و صححہ الحاکم علی شرط الشیخین)




No comments:

Post a Comment